Rafta rafta wo meri hasta ka saman ho gae
Poet: Tasleem Fazli
رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جانا ں ہوگئے رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے دن بدن بڑھتی گئیں اس حسن کی رعنائیاں پہلے گل پھر گل بدن پھر گل بداماں ہو گئے رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے آپ تو نزدیک سے نز دیک تر آتے گئے پہلے دل پھر دلربا پھر دل کے مہمان ہو گئے رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے آپ سے پھر تم ہوئے پھر تو کا عنوان ہو گئے رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جانا ں ہوگئے رفتہ رفتہ وہ میر ی ہستی کا ساماں ہو گئے
