Thak Gaya Hoon

Poet: Irfan Ali Taj

0 ·  74

تیرے صورت خیالوں میں بسا بسا کے تھک گیا ہوں
غمِ دنیا کے دھن بجا بجا کے تھک گیا ہوں

سنو کہ آج اور کل میں
پرانے میں نئے میں
تیری خواہش کی دنیا میں
میری افسردہ پل میں

جو نہ سمجھو تو سب مشکل
جو سمجھو سب آسان
تمہارے دل میں ڈر تھا
اور میرے دل میں یقین تھا

خدا کی ذات کو منظور تھا جیسا ہوا ویسا
مگر من میں چراغوں کو بجھا کے تھک گیا ہوں

میری فریاد سن لو اے ساقی
پلا دو جام کچھ ایسا بھی
کہ جس سے غم میرے دل کے
میری ناکام منزل کے
قطرہ قطرہ بھلا دوں میں
سمندر میں ملا دوں میں
با خبر ہے تو ہر آہٹ سے ساقی
تیرے اور میرے بیچ میں باقی
یہ دیوار مجاز عشق کافی
اس کی بنیاد کو توڑو اسے مٹا دو تم
میرے دل میں بسا آ کے مجھے اپنا بنا لو

ساقی اب بس بتا بتا بتا بتا بتا بتا بتا کے تھک گیا ہوں

کرے بندے سے گر جو عشق تو دیوانہ ہو
خدا کو پانے جو نکلا وہ مارا جاتا ہے
نہ پائے عشق، یہ مجبوری، نہ ہم دنیا پائے
مرینگے گر تو پائیں کیا؟ یہ کس نے جانا ہے!

خزان کے سوکھے پتوں سا پھرے مجنوں سارے
وفا کی کھوج میں اپنی خودی کو خود ماریں
یہ مرجھائے ہوئے پروں کی مانند
تیرے بوئے ہوئے پھولوں کی مانند
نہ ان میں تازگی ہے نہ کوئی روح
مگر عاشق تیرا ان میں مصروف

وفا کے سوکھے پتوں کو جلا جلا کے تھک گیا ہوں
تیرے کھونے کا غم دل میں دبا کے تھک گیا ہوں

تیرے صورت خیالوں میں بسا بسا کے تھک گیا ہوں
غمِ دنیا کے دھن بجا بجا کے تھک گیا ہوں

Listen on YouTube